وابستگی کا دعویٰ بھارت میں شناخت اور شہریت
و جدید بندوستانی عوامی زندگی کے شور غل کے نیچے ایک خاموش سوال دیا ہوا ہے جس کا جواب ہر شہری کو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا خطے سے ہو، بالآخر دينا ہی ہوگا: کیا میرا تعلق یہاں سے ہے؟ ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں کی بڑی اکثریت کے لیے اس کا ہے ۔ جواب ہمیشہ ایک واضح ‘ہاں’ رہا انہوں نے اس قوم کی تعمیر میں مدد کی، اس کا دفاع کیا، اپنی ثقافت اور فن کے ذریعے اسے مالا مال کیا، اور علم و خدمت ڈالا۔ تاہم، بڑھتی کے ذریعے اپنا حصہ غلط ہوئی پولرائزیشن (فکری تقسیم)، معلومات اور انتہا پسندانہ اثر و رسوخ کے اس دور میں، وابستگی کے اس احساس کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ دستور کے ذریعے نہیں، جو اس کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ ان قوتوں کے ذریعے جو شناخت کو نقصان کر ده مقاصد کے لیے غلط استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسی قوتوں کا سب سے مضبوط جواب خاموشی یا پسپائی اختیار کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ دستور، بندوستان کی کثیر جہتی ثقافت اور بقائے باہمی کی طویل تاریخ کے عطا کرده حقوق اور اقدار کے ذریعے اپنی شناخت شهریت اور وابستگی کا پر اعتماد اظہار ہے۔ بندوستان کا دستور مذہب کی بنیاد پر شہریوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ دفعہ 14 سے 32 تک تما سے تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری، عقیدے کی آزادی اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔ دستور کا دیباچہ (تمهید) “بم، بندوستان کے عوام” کے ہے ۔ ڈاکٹر الفاظ سے شروع ہوتا ہے، جو شمولیت کا ایک ایسا طاقتور اعلان ہے جو دنیا کے پرجوش ترین جمہوری وعدوں میں سے ایک بی آر امبیڈکر اس بات کو سمجھتے تھے کہ صرف قانونی برابری کافی نہیں ہے۔ انہوں نے بھائی چارے (اخوت) کی اہمیت پر زور دیا، جس کا مطلب پر شهری کی مساوی انسانیت کا احترام ہے۔ بھائی چارے کا یہی احساس حقیقی وابستگی کی بنیاد پانے کا ہے، حق اور پر ہندوستانی اسے رکھتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اس حق کا دعوی پورے اعتماد کے ساتھ کرنا چاہیے. یہ کسی دباؤ کا رد عمل نہیں، بلکہ ملک کی تاریخ میں اپنے کردار کا اعتراف ہونا چاہیے۔ دیگر تمام طبقات کی طرح، انہوں نے بھی بطور
سائنسدان، مصلح اور سماجی ہم سیابی، آینگی کے معمار کی حیثیت سے اپنا حصہ انہیں ڈالا ہے۔ ایک قوم کے طور پر، آئینی اقدار، شہری ذمہ داریوں اور کثرت پسندی (تنوع) کو برقرار رکھنا جاری رکھنا چاہیے. وابستگی محض ایک احساس نہیں ہے؛ اسے تحفظ فراہم کرنا اور مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اس کے لیے دیانتداری، ذمہ داری اور ملک کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے بڑے خطرات میں سے ایک انتها پسندی (Radicalisation) ہے ۔ انتہا پسندانہ نظریات سوشل میڈیا، بیرونی اثرات اور ان شدت پسند گروہوں کے ذریعے پھیلتے ہیں جو نوجوانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا اس ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ گروہ اکثر دوسرے طبقات کو دشمن کے طور پر پیش کرتے ہیں اور تشدد کو حل کے طور پر فروغ دیتے ہیں۔ ایسی قوتوں کی سختی سے ان اثرات کی مخالفت ہونی چاہیے۔ نشاندہی اور مزاحمت کرنا نہ صرف عوامی ملک کے وفاداری کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے بار بار ثابت کرنے کی ضرورت ہو؛ اسے روزمرہ کے ان کاموں میں جھلکنا چاہیے جو امن، قانون اور قومی یکجہتی کو تقویت دیتے ہیں۔ خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کرنا ناگزیر ہے۔ انتہا پسند نظریات نوجوان مسلمانوں کو یہ دعویٰ کر کے گمراہ کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ ان کا عقیدہ اور ان کی قومیت ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ وہ ریاست کو ایک دشمن کے طور پر پیش کرتے ہیں اور تشدد کے جواز کے لیے مذہب کا غلط استعمال کرتے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ تئیں ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہیں۔ یہ سوچ نقصان دہ ہے اور ایمان کی ان حقیقی اقدار کے منافی ہے جو انصاف بمدردی اور انسانی زندگی کے احترام پر زور دیتی ہیں۔ ایسے خیالات کو چیلنج کرنے کی ذمہ داری خود کمیونٹی کے اندر سے آنی چاہیے: یعنی مذہبی رہنماؤں، خود والدين نوجوانوں کی طرف سے۔ علماء، اساتذه اور
حالات وں کو یہ آج کے مسلم نوجوان تعلیم یافتہ، پرعزم اور (دنیا سے) باخبر ہیں۔ بعض آن لائن بیانیے نوجوان مسلمانوں يقين دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بھارت میں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اور یوں انہیں اشتعال اور تنہائی کی طرف دھکیلتے ہیں۔ انتہا پسندی کا طریقہ کار یہی ہے کہ وہ و واقعات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرتی ہے اور تشدد کو واحد حل کے طور پر دکھاتی ہے۔ اس کا حل متوازن فهم اور مضبوط متبادل فراہم کرنے میں پنہاں ہے۔ علمائے کرام واضح کر سکتے ہیں کہ حقیقی مذہبی تعلیمات تشدد کو یکسر مسترد کرتی ہیں۔ کمیونٹی لیڈر نوجوانوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں کہ اپنے تحفظات کو قانونی اور جمہوری طریقوں سے حل کریں۔ خود نوجوانوں کو بھی تنقیدی سوچ وه پروان چڑهانی )Critical Thinking( چاہیے تاکہ وہ آن لائن دیکھی جانے والی باتوں پر سوال اٹھا سکیں اور ان کا تجزیہ کر سکیں ۔ ہے کہ تعلق یا وابستگی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو محض تحفے میں مل جائے؛ اسے ہر روز عملی طور پر جینا اور مضبوط کرنا پڑتا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کے لیے اس کا مطلب اس باطل تصور کو مسترد کرنا انہیں اپنے ایمان اور وطن، یا اپنی شناخت اور شہریت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ یہ ایک غلط انتخاب ہے۔ بھارت کا دستور بر فرد کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل پیرا رہتے ہوئے ملک کے لیے مکمل طور پر وقف رہے۔ ایک انسان کے بیک وقت گہرا مذہبی اور کثر محب وطن ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ وابستگی کا سوال تو آئین پہلے ہی حل کر چکا ہے۔ اب جو باقی ان اقدار کے مطابق جینے کی ذمہ داری ہے جو آئین نے ہمیں دی ہیں۔ یعنی بھائی چاره، کثرت پسندی اور قانون کا احترام. ہے وہ انتہا پسندانہ بیانیوں کو مسترد کر کے اور اپنے خدشات کو جمہوری طریقوں سے حل کر کے، بھارتی مسلمان ملک میں اپنے جائز مقام کی توثیق کرتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ان کی اپنی حیثیت کو قوی کرتا اتحاد، ہے بلکہ مجموعی طور پر ملک کے استحکام اور اخلاقی قوت کو بھی تقویت بخشتا ہے۔
الطاف مير،
پی ایچ ڈی، جامعہ ملیہ اسلامیہ



